مونگیر:23/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جامعہ رحمانی مونگیر میں النادی العربی کا افتتاح ہوگیا ،یہ پروگرام عربی زبان کے سکھانے کیلئے جامعہ رحمانی میں برسوں سے رائج ہے، اس پروگرام کی وجہ سے طلبہ عربی زبان کے بولنے پر دسترس حاصل کرتے ہیں، جامعہ رحمانی کے سابق ناظم تعلیمات اور النادی العربی کے ذمہ دار جناب مولانامحمدنعیم صاحب رحمانی کی دعوت پر اس پروگرام کا افتتاحی اجلاس کتب خانہ رحمانیہ میں منعقد ہؤا ،افتتاحی اجلاس کو جامعہ رحمانی کے ناظم تعلیمات جناب مولانامحمد خالد صاحب رحمانی نے ترتیب دیا، جامعہ رحمانی کے طالب علم محمد اشفاق رحمانی کی تلاوت سے بزم النادی العربی کاآغاز ہؤا، عالمی تنظیم برائے فضلاء ازہر کے جنرل سکریٹری اور جامعہ رحمانی کے استاذ تفسیر وحدیث مولاناڈاکٹر محمد شہاب الدین ازہری صاحب نے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کا شکریہ ادا کیا ، اورکہا کہ حضرت دامت برکاتہم نے ہم لوگوں کے لیے عربی زبان سیکھنے اور سکھانے کایہ بہترین پلیٹ فارم عطاکیا ہے ، مولانا ازہر ی نے عربی زبان کی اہمیت وافادیت پر خاطرخواہ روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ علم دین کا سیکھنا ہمارے اوپر فرض ہے، اور دین اسلام عربی میںآیا ہے، تو بغیرعربی زبان سیکھے ہوئے، مذہب اسلام کی صحیح ترجمانی نہیں ہوسکتی ہے، ومالا یتم الواجب الابہ فھو واجب کے مشہور قاعدے کی روشنی میں اس کے سیکھنے کوانہوں نے واجب قرار دیا، انہوں نے مشہور زمانہ ادیب مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کے مقولہ کو بھی نقل کیا، جس میں وہ دین کے خادموں کے لیے عربی سیکھنے کو فرض قرار دیتے ہیں، مزید موصوف نے بتایا کہ جو عربی زبان سیکھتے ہیں، ان کی مزاج میں نرمی اور لطافت آتی ہے، جس کے لیے انہوں نے حضرت امام شافعیؒ کا مشہور قول بھی نقل کیا ہے، من تعلم العربیۃ رق طبعہموصوف نے یہ بھی کہا کہ جو عربی زبان سیکھتے ہیں، انکی عقلیں مضبوط اور پختہ ہوتی ہیں، اورمروت اورخودداری میں بھی انکے اضافہ ہوتا ہے، اس کے لیے انہوں نے عالم عرب کے مشہور شاعر وادیب شوقی ضیف کاقول بھی نقل کیا ، تعلموا اللغۃ العربیۃ فانہا تثبت العقل وتزید فی المروۃ۔اس کے بعد جامعہ رحمانی کے استاذ مولانا محمدنور الدین ندوی تشریف لائے اور انہوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ عربی سیکھنے کے جو دینی فوائد ہیں، وہ توآپ نے سن ہی لیا، اس کے علاوہ دنیا وی فوائد بھی ہیں، اوروہ ہے تو حید المسلمین والاستفادۃ منہم چونکہ اس زبان کی وجہ سے دنیا کے سارے مسلمان ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں، بھائی چارگی محسوس کرتے ہیں، اس زبان میں گیرائی ہے جس کی وجہ ہر جگہ اس زبان کے جاننے والوں کی پذیرائی ہوتی ہے، اور بلند دینی عہدوں اور منصوبوں پر فائز کیا جاتا ہے، اسی وحدت لسانی کی وجہ سے دنیا ہمارے علماؤں اور انکی بیش بہا خدمتوں کو جان سکی ہے، او ر ہم علماؤ ں کی خدمت سے متعارف ہوسکے ہیں، انہوں نے کہا جب ہندوستان میں انگریز کاتسلط قائم ہوا، تو دین کو بچانا مشکل ہوگیاتھا، تو ہمارے علماؤں نے خود ہندوستان میں عربی زبان کی حفاظت کے لیے مدارس ومکاتب کاجال بچھا دیا، اسکے لیے مولانا نے ترکی کی مثال پیش کی، اور کمال اتاترک کے منحوس دور کا تذکرہ کرتے ہوئے، کہا کہ جب انکی حکومت آئی تو انہوں نے سب سے پہلے اس نے عربی زبان پر قدغن لگایا، اور پابندی لگائی، اور قرآن پر بھی پابندی عائد کردی، اور عربی زبان کو اپنے ملک سے باہر کردیا، عربی کتابوں کو نذر آتش کیا، نتیجہ یہ ہؤ اکہ اس کے خرد برد سے قرآن جیسی عظیم کتاب بھی محفوظ نہ رہ سکی، لیکن اللہ کی شان دیکھئے کہ اس نے آج پھر ترکی کو اسلام کی ترجمانی کے لیے چن لیا، اور عربی زبان کو اپنی جگہ واپس لوٹا دیا۔ معمل کے ذمہ دار مولاناصالحین ندوی نے بچوں کو عربی زبان سیکھنے کے آسان اور دلچسپ طریقے بتائے، او ر انہیں قیمتی مشوروں سے نوازا۔مولاناتوفیق ندوی نے عربی زبان کی افادیت پر روشنی ڈالی ،پروگرام سے جامعہ رحمانی کے استاذ حدیث جناب مولانا مفتی ریاض احمد صاحب نے بھی اس موقعہ پر خطاب کیا ،مولانا جمیل احمدصاحب مظاہری استاذ حدیث جامعہ رحمانی کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔